क्राइम
انچرواڑی علاقے میں پانچ نیلگائی کا شکار؛ تفتیش میں چونکا دینے والا انکشاف
عدالتی حکم کے بعد زندہ نیلگائی کو جنگلی حیات کے تحفظ کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا

قاصد بلڈانہ : چکھلی تعلقہ کے شیلگاو¿ں آٹول کے قریب انچرواڑی علاقے میں اتوار، 24 اگست کو نیل گائی کا شکار کرکے اس کا گوشت کھلے عام فروخت کرنے کا واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔ اس سے محکمہ جنگلات کے شعبے سمیت ضلعی انتظامیہ ہل گئی اور ضلع بھر میں ہلچل مچ گئی تھی۔
اس سنسنی خیز واقعے کی تفتیش میں یہ چونکا دینے والی بات سامنے آئی ہے کہ پانچ نیل گائی کا شکار کیا گیا تھا۔ نامعلوم ملزم شکاری ابھی تک مفرور ہیں، جبکہ محکمہ جنگلات نے واقعے کی جگہ سے قبضے میں لئے گئے زندہ نیل گائی کو پیر، 25 اگست کو عدالتی حکم پر جنگلی حیات کے تحفظ کے علاقے میں رہا کر دیا گیا ہے۔
چکھلی تعلقہ کے انچرواڑی علاقے میں نیل گائی کا شکار کرکے گوشت کی فروخت کی اطلاع ملتے ہی بلڈانہ محکمہ جنگلات کے شعبے نے موقع پر چھاپہ مارا۔ ایک زندہ نیل گائی ،چار کھالیں، ایک موٹرسائیکل اور شکار کا سامان ضبط کیا گیا تھا۔ چکھلی تعلقہ کے شیلگاو¿ں آٹول-انچرواڑی علاقے میں سڑک کے کنارے ایک کھیت میں نیل گائی کے گوشت کی فروخت کی اطلاع محکمہ جنگلات کے شعبے کو ملی تھی۔ اس کے مطابق، محکمہ جنگلات کے ڈپٹی کنزرویٹر سروج گواس اور اے ۔سی ۔ایف۔ ویبھو کاکڑے کی رہنمائی میںبلڈانہ آر ایف او سنیل باکوڑے اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ دور سے کچھ افراد نیل گائی کا گوشت فروخت کرتے ہوئے نظر آئے۔ تاہم، محکمہ جنگلات کے شعبے کے اہلکاروں کو دیکھتے ہی یہ شکاری فرار ہو گئے۔ اس کے بعد پنچنامہ کرکے ایک زندہ نیل گائی ،چار کھالیں، موٹرسائیکل، گوشت، سینگ، کلہاڑی، چھری وغیرہ ضبط کیے گئے۔ اس معاملے میں نامعلوم شکاریوں کے خلاف جنگلی حیات تحفظ ایکٹ 1972 کے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
بلڈانہ کے جنگلاتی رینج آفیسر سنیل واکوڈے نے بتایا کہ مفرور ملزم کی تلاش شدت سے کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، واقعے کی جگہ سے قبضے میں لئے گئے ایک زندہ نیل گائی کو بلڈانہ ۔خامگاو¿ں روڈ پر واقع گیان گنگا جنگلی حیات کے تحفظ کے علاقے میں پیر کی شام رہا کیا گیا۔ واکوڈ ے نے واضح کیا کہ یہ کارروائی عدالتی حکم کے مطابق کی گئی ہے۔



